اعتراض۱
جہاد فی سبیل
اﷲ، بلکہ جہاد اقدامی کے بارے میں ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے، کہ شریعت مطہرہ نے
ہمیں جہاد کی اجازت تو دی ہے، مگر اس شرط پر کہ کفار حملہ آور ہوں، وگرنہ ہمیں پہل
کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کیلئے قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات مبارکہ اور ان
جیسی دیگر آیات پیش کی جاتی ہیں۔
وَقَاتِلُوْا
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ(سورہ بقرہ، آیت نمبر۱۹۰)
ترجمہ:
اور تم اﷲ تعالیٰ کے راستہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے
لڑتے ہیں۔
فَمَنِ
اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْاعَلَیْہٖ بِمِثْلِ مَاعْتَدٰی عَلَیْکُمْ (سورۃ
بقرہ، آیت نمبر ۱۹۴)
جو تم
پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کا بدلہ زیادتی کی مقدار کے مطابق لے سکتے ہو۔
فَاِنَّمَا
عَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابْ(سورۃ الرَّعد، آیت نمبر۴۰)
(اے
نبی ﷺ )
تمہارے ذمہ بات پہنچانا ہے اور حساب ان کا ہمارے ذمہ ہے
وَاِنْ
عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْابِمِثْلِ مَاعُوْقِبْتُمْ بِہٖ(سورۃ النحل، آیت نمبر۱۲۶)
اور
اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے۔
جواب:
جواب سے قبل ایک بات ذہن نشین فرمالیں کہ قرآن کریم میں
بعض آیات و احکامات منسوخ ہوئے ہیں۔ جیسے پہلے روزہ رات اور دن کا تھا ،مگر اب صرف
دن کا ہے پہلے جہاد میں ایک کا مقابلہ دس سے تھا مگر اب ایک کا مقابلہ دو سے ہے
وغیرہ۔
اور قرآن کریم
میں بھی اس مسئلہ کی بڑی وضاحت موجود ہے
مَا
نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْ مِثْلِہَا
(سورۃ البقرہ، آیت نمبر۱۰۶
اور اس نسخ کی
چار صورتیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آیت کی تلاوت باقی ہو اور اس کا حکم منسوخ
ہوجائے۔ جسے مَنْسُوْخُ الْحُکْم دُونَ الْتِّلَاوۃ کہا جاتا ہے۔
اس مختصر سی
تمہید کے بعد اصل جواب ملاحظہ فرمائیں
مشہور ومعروف
مفسر، محدث اور فقیہ ملا احمد جیون میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف
‘‘تفسیرات
احمدیہ فی بیان الآیات الشرعیہ’’میں
تحریر فرماتے ہیں۔
اب میں آپ کو
وہ آیات بتلاتا ہوں جو مَنْسُوْخُ الْحُکْم دُونَ الْتِّلَاوۃ
ہیں اور مجھے کتب کی چھان بین سے دستیاب ہوئی ہیں۔
وہ تمام آیات
جن میں مقاتلین سے عفوودرگزر کا تذکرہ ہے جیسے
فَاِنَّمَا
عَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابْ(سورۃ الرَّعد، آیت نمبر۴۰)
اور
لَکُمْ
دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن(سورۃ الکافرون)
یا جن میں جنگ
میں پہل کرنے سے رو کا گیا ہے مثلاً
وَلَاتَعْتَدُوْا
اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن(سورۃ البقرہ، آیت نمبر ۱۹۰)
ایسی تمام آیات
ان آیات سے منسوخ ہیں جن میں ہمیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے جیسے
وَقَاتِلُواالْمُشْرِکِیْنَ
کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّۃً(سورۃ توبہ، آیت نمبر۳۶)
اور
فَاِذَاا نْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحَرُمُ فَاقْتُلُوْاالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ
وَجَدْتُمُوْہُمْ(سورۃ توبہ ، آیت نمبر۵)
امام زاہدؒ
کہتے ہیں کہ تقریباً ستّر(۷۰) آیات ایسی ہیں جو آیات قتال سے منسوخ
ہیں۔
صاحب الاتقان
لکھتے ہیں کہ ایک سو چوبیس (۱۲۴) آیات اس آیت سے منسوخ ہیں۔
فَاِذَاا
نْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحَرُمُ فَاقْتُلُوْاالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ
وَجَدْتُمُوْہُمْ(سورۃ توبہ ، آیت نمبر۵)
(تفسیرات احمدیہ فی بیان الآیات الشرعیہ)
اس لئے ایسی
تمام آیات کا حکم چونکہ منسوخ ہے، لہٰذا ان کو دلیل بنا کر اقدامی جہاد سے انکارکر
نا،ایک حکمِ شرعی کا انکار کرناہے جو کہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔
منسوخ آیتوں کو
نہ حیلہ بنائیے
یہ فلسفہ غلط
ہے دفاعی جہاد کا
مقصودِ جہد
شوکتِ اسلام ہے فقط
لازم ہے یوں
مٹانا زمین سے فساد کا